ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوستان کو 4لوگ چلارہے ہیں،ہم دو،ہمارے دو لوک سبھا میں راہل گاندھی کا تیورسخت،پی ایم مودی کی ادھیڑ دی بخیہ!​​​​​​​

ہندوستان کو 4لوگ چلارہے ہیں،ہم دو،ہمارے دو لوک سبھا میں راہل گاندھی کا تیورسخت،پی ایم مودی کی ادھیڑ دی بخیہ!​​​​​​​

Thu, 11 Feb 2021 21:02:38    S.O. News Service

نئی دہلی،12؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو آج لوک سبھا میں جب بجٹ سے متعلق بولنے کا موقع دیا گیا تو انھوں نے ’زرعی قوانین‘ کے تعلق سے کئی باتیں اس طرح ایوان کے سامنے رکھ دیں، جس سے پی ایم مودی اور مرکزی حکومت کٹہرے میں کھڑی نظر آئی۔ انھوں نے کہا کہ ایک دن قبل پی ایم مودی نے کہا تھا کہ مظاہرہ کے بارے میں تو لوگ بات کر رہے ہیں لیکن ’کنٹینٹ-انٹینٹ‘ (مواد-منشا) پر کوئی بات نہیں ہو رہی ہے۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے نئے زرعی قوانین میں موجود خامیاں یکے بعد دیگرے شمار کرانی شروع کر دی۔ انھوں نے اپنی تقریر کے دوران یہ ظاہر کیا کہ آخر کس طرح تینوں قوانین کسانوں کے خلاف اور کارپوریٹ کے لیے فائدہ مند ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’پہلے نمبر پر زرعی قوانین کے کنٹینٹ میں منڈیوں کو ختم کرنا ہے، دوسری بات اس قانون کے کنٹینٹ میں یہ ہے کہ کوئی بھی صنعت کار جتنا چاہے اتنا اناج، پھل اور سبزی اسٹور کر سکتا ہے۔ جمع خوری کو فروغ دینا اس قانون کا مقصد ہے۔ تیسرا کنٹینٹ اس قانون میں یہ ہے کہ جب ایک کسان ہندوستان کے سب سے بڑے صنعت کار کے سامنے جا کر سبزی-اناج کے لیے صحیح قیمت مانگیں گے تو اسے عدالت میں نہیں جانے دیا جائے گا۔‘‘

راہل گاندھی جب زرعی قوانین میں یہ خامیاں شمار کرا رہے تھے تو بی جے پی اراکین ہنگامہ کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے بعد اسپیکر اوم برلا نے راہل گاندھی سے کہا کہ وہ بجٹ پر بات کریں، لیکن کانگریس رکن پارلیمنٹ زرعی قوانین سے متعلق سچائی ایوان کے سامنے رکھتے رہے۔

انھوں نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’سالوں پہلے فیملی پلاننگ کا نعرہ تھا ’ہم دو-ہمارے دو‘۔ آج کیا ہو رہا ہے، یہ نعرہ دوسری شکل میں سامنے آیا ہے۔ اس ملک کو چار لوگ چلاتے ہیں۔ آج اس حکومت کا نعرہ ہے ’ہم دو-ہمارے دو‘۔‘‘

راہل گاندھی نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ 2 دوستوں میں ایک دوست ہے جس کو پھل اور سبزی فروخت کرنے کا اختیار ہے۔ اس سے نقصان ٹھیلہ والوں کا ہوگا، چھوٹے تاجروں کا ہوگا، منڈی میں کام کرنے والے لوگوں کا ہوگا۔ دوسرے دوست کو پورے ملک میں اناج، پھل اور سبزی کو اسٹور کرنا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ ’’جب یہ قانون نافذ ہوں گے، ملک کے کسانوں اور مزدوروں و تاجروں کا دھندا بند ہو جائے گا۔ کسانوں کا کھیت چلا جائے گا۔ صحیح قیمت نہیں ملے گی اور صرف دو لوگ ’ہم دو اور ہمارے دو‘ لوگ اسے چلائیں گے۔ سالوں بعد ہندوستان کے لوگوں کو بھوک سے مرنا پڑے گا۔ دیہی معیشت تباہ ہو جائے گی۔‘‘

”جوانوں کی شہادت کی بے عزتی کیوں؟“کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے چین کو لے کر ایک بار پھر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے- راہل گاندھی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیوں مرکزی حکومت ہمارے جوانوں کی قربانی کی بے عزتی کر رہی ہے اور اپنی زمین کو قبضے میں جانے دے رہی ہے- راہل گاندھی کا یہ رد عمل راجیہ سبھا میں چین پر موجودہ حالت کو لے کر راج ناتھ سنگھ کے بیان کے فوراً بعد آیا ہے-

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ”موجودہ حالت کی کوئی جانکاری نہیں، نہ کوئی امن اور نہ پرسکون ماحول-“ اس کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے پوچھا ہے کہ ”حکومت ہمارے بہادر جوانوں کی قربانی کی بے عزتی کیوں کر رہی ہے اور ہماری زمین کیوں جانے دے رہی ہے؟“

واضح رہے کہ مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں کہا کہ ہندوستان کا اصل مقصد مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر امن قائم کرنا ہے- ہندوستان اور چین کے درمیان رخنہ اندازی پر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ چین سے لگاتار بات چیت کے بعد اب دونوں ممالک کی فوج پیچھے ہٹنے کو تیار ہے-

راہل گاندھی نے کہا کہ ایک آواز سے پورا ملک ’ہم دو ہمارے دو‘ حکومت کے خلاف اٹھنے جا رہا ہے- کسان ایک انچ پیچھے نہیں ہٹنے والا، کسان آپ کو ہٹا دے گا-آپ کو قانون واپس لینا ہی ہوگا-‘


Share: